Ads

ڈینگی بخار کی علامات اور علاج


Dengue Fever ڈینگی بخار کی علامات اور علاج
ڈینگی بخارکوئی نیا مرض نہیں ہے۔  یہ ایک مخصوص مچھر کے کاٹنے سے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اس کا زیادہ شکار ایشیائی ممالک ہیں۔  لیکن گھبرانے کی کوئی بات نہیں یہ مکمل طور پر قابل علاج مرض ہے۔

ڈینگی بخار کی علامات

مریض کو تیز بخار کے ساتھ ساتھ  سر میں بہت سخت درد ہونے لگتا ہے    گھٹنوں میں تکلیف اور جوڑوں میں بھی درد ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
جسم انسانی کی قوت مدافعت تقریبا ختم ہو جاتی ہے۔
سرخ رنگ کے دھبے پورے جسم پر ظاہر ہونے لگتے ہیں۔

ڈینگی بخار کے مراحل

ڈینگی بخار کے چار مراحل ہوتے ہیں۔ ابتدائی دو مراحل میں علاج آسانی سے ہو سکتا ہے لیکن آخری دونوں مراحل میں جان بچانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہ چاروں مراحل نیچے بیان کیے گئے ہیں۔

۔ پہلا مرحلا، مریض کو شدید بخار اور اوپر بیان کردہ علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔
۔ دوسرے مرحلے میں پہلے مرحلے کی علامات کے  ساتھ ساتھ بڑی آنت، مسوڑھوں اور جلد سے خون بہنے لگ جاتا ہے۔
۔ تیسرے مرحلے میں نظام دوران خون بھی شدید طور پر متاثر ہوتا ہے۔
۔ چوتھے مرحلے میں مریض کے لیے تکلیف ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔ اور قوت مدافعت کے نا ہونے کی وجہ سے وہ کئی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔

ڈینگی بخار سے بچاو کے لیے احتیاطی تدابیر

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والی اموات میں ڈینگی بخار سے ہونے والی اموات کا تناسب چار  فیصد ہے۔  صرف احتیاط سے ہی اس مرض سے مکمل بچاو ممکن ہے۔  اس مرض کو  پھیلانے والے مچھرصرف صاف پانی میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ اس لیے اپنے گھروں اور باغیچوں میں کہیں پر بھی صاف پانے کو کھڑا مت ہونے دیں۔ صاف پانے کے تمام برتنوں کو ڈھانپ کر اور واٹر ٹینک کو ہمیشہ ڈھکن لگا کر رکھیں۔

مچھر مارنے والے سپرے کا باقاعدگی سے استعمال کریں اور گھر کے ہر کونے اور بستروں اور صوفہ سیٹ وغیرہ کے نیچے سپرے لازمی کیا کریں۔

ڈینگی پھیلانے والا مچھر ذیادہ تر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے اوقات میں حملہ آور ہوتا ہے اس لیے ان اوقات میں خصوصی احتیاط کیا کریں۔ مچھر دانی اور مچھر بھگانے والے لوشن کا استعمال بھی ایک اچھی احتیاط ہے۔

ڈینگی بخار  کا علاج

جدید تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بخار اتنا خطرناک نہیں جتنا اس کو سمجھا جاتا ہے۔  ضروری دیکھ بھال اور باقاعدہ علاج سےصرف  ایک ہفتے  سے دو ہفتے کے دوران مکمل شفا حاصل ہو جاتی ہے۔

طبی ماہرین کی تحقیق  کے مطابق ڈینگی بخار کے علاج کے لیے پپیتے کے پتے اور شہد کا استعمال بہترین ثابت ہوا ہے۔ ہمارے پیارے رسول ؐ شہد کو پانی میں حل کر کے پینا پسند فرماتے تھے۔ بالکل اسی طرح ایک پیالی نیم گرم پانی میں ایک چمچہ شہد ملا کر دن میں تین بار کھانے سے کچھ دیر پہلے پی لیں۔

پپیتے کے پتوں کا رس نکال کر صبح اور شام پلانا بھی  ڈینگی بخار کا شافی علاج ہے۔

No comments:

Post a Comment